ابنا: اتوار کو مصر کے وزیر خارجہ محمد کامل عمرو نے اپنے ایرانی ہم منصب علی اکبر صالحی کو فون کرکے یہ مبارک باد پیش کی.14 جون کو منعقد ہوئے ایران کے 11ویں صدارتی انتخابات میں حسن روحانی نے 50.7 فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ وزارت داخلہ کے مطابق کل ٹرن آؤٹ 72.7 فیصد رہا ہے۔صالحی اور کامل عمرو نے ایران اور مصر کے درمیان باہمی تعلقات کے مزید استحکام پر تبادلہ خیال بھی کیا.صالحی نے شام میں جاری بحران کو حل کرنے کے مقصد سے چار ملکوں پر مشتمل ایک اجلاس کی پہل کے لیے مصر کا خیر مقدم کیا.ایران اور مصر کے وزراء خارجہ نے شام کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شام میں جاری بحران کے پر امن حل کا مطالبہ کیا۔4 مئی کو صالحی نے مصری حکام سے رابطہ کرکے شام کے بحران کے حل کے لیے چار ملکی اجلاس کے جلد انعقاد کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ تہران کسی بھی ملک میں اور کسی بھی سطح پر مذاکرات میں شرکت کرنے یا اس کی میزبانی کر نے کے لئے آمادہ ہے۔اگست 2012 میں مکہ مکرمہ میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے سربراہی اجلاس کے دوران، مصر کے صدر محمد مرسی نے شام کے بحران کے حل کے لیے ایران، مصر، ترکی، اور سعودی عرب پر مشتمل ایک رابطہ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی.6 فروری کو قاہرہ میں ایران، مصر، اور ترکی کے صدور نے ملاقات کی اور شام میں جاری بحران کے فوری حل اور خونریزی کے خاتمے کا مطالبہ کیا. سعودی عرب نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی.غور طلب ہے کہ مارچ سال دو ہزار گیارہ سے شام میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد وسیع پیمانے پر تباہی مچا رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز سمیت معصوم عوام کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ہدف قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک تیرانوے ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔...../169
16 جون 2013 - 19:30
News ID: 430705
مصر کے وزیر خارجہ نے ایران میں کامیاب صدارتی انتخابات کی ستائِش کرتے ہوئے نو منتخب صدر حسن رحانی کی فتح پر ان کو مبارکباد پیش کی ہے.